بنگلورو،17؍نومبر(ایس او نیوز)کرناٹک بھر میں منگل سے ڈگری کالجس میں کلاسوں کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔ کلاسس کے اہتمام کے لئے حکومت اور کالجوں کے انتظامیہ کی طرف سے تمام تر انتظامات کئے جا چکے ہیں۔ نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر اشوتھ نارائن نے اس سلسلہ میں وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کو تمام تفصیلات سے آگاہ کروایا۔وزیر اعلیٰ کی ہوم آفس کاویری میں اس ضمن میں تفصیلات فراہم کرنے کے لئے کی گئی میٹنگ میں نائب وزیر اعلیٰ نے کووڈ ضابطوں کے مطابق کلاسس کی شروعات کے لئے حکومت کی طرف سے عائد پابندیوں کی تفصیل وزیر اعلیٰ کو بتائی۔
انہوں نے بتایا کہ کل سے انجینئرنگ، ڈپلومہ اور ڈگری کورسوں کے کلاسس کی شروعات کی جائے گی۔ کالج کے داخلی دروازوں پر تھرمل اسکیاننگ اور سینی ٹائزر لازمی قرار دیا گیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کالج میں طلباء کی حاضری والدین کی تحریری منظوری کے بعد ہی ہوگی۔ سماجی فاصلہ کی پابندی کے ساتھ ساتھ کالج کے عملہ، اساتذہ اور طلباء تمام کے لئے ماسک کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جن لوگوں کی صحت خراب ہے ان کو کالج میں داخلہ نہ دینے کی پابندی لگائی گئی ہے۔ حکومت نے ہر کالج میں ایک کووڈ ٹاسک فورس متعین کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکومت کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ والدین کی طرف سے تحریری منظوری کے بعد ہی طلباء کو کالج میں آنے دیا جائے گا۔ اس کے بعد کئی حلقوں میں یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا والدین کی طرف سے تحریری منظور ملنے کے بعد ان طلباء کی حفاظر کے تئیں حکومت کی ذمہ داری ختم ہو جائے گی۔
ڈاکٹر اشوتھ نارائن نے کہا کہ تعلیمی سرگرمیاں شروع ہونے کے بعد نصاب میں کمی لانے کا حکومت کی طرف سے کوئی منصوبہ نہیں نصاب کی تکمیل کے بعد ممکن ہے کہ امتحان کی تاریخ کو آگے بڑھادیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کووڈ ٹیٹس مفت کروایا جائے گا۔ٹسٹ رپورٹ میں اگر طلباء پازیٹیو پائے جاتے ہیں تو انہیں گھر واپس بھیج دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کالجس کی شروعات کے بعد اگر کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو اس سے نپٹنے کے لئے بھی محکمہ کی طرف سے منصوبہ بنایا گیا ہے۔ کالج میں طلباء کو آنے کے لئے کسی طرح کی زبردستی نہیں کی جائے گی بلکہ ان کی حاضری رضاکارانہ طور پر ہو گی۔انہوں نے کہا کہ کالجوں کے ہاسٹلوں میں بھی طلباء کے لئے تمام احتیاطی قدم اٹھائے گئے ہیں۔